Home Uncategorized تکنیکی وجوہات پر 18 پاور پلانٹس بندش کا شکار

تکنیکی وجوہات پر 18 پاور پلانٹس بندش کا شکار

نو منتخب حکام نے پاور پلانٹس کی بندش کا ذمہ دار گزشتہ  حکومت کو ٹھہرا دیا

942
0

نو منتخب حکام نے پاور پلانٹس کی بندش کا ذمہ دار گزشتہ  حکومت کو ٹھہرا دیا

جمعرات کو پاور ڈویژن نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ ملک میں فی الحال بجلی کی کوئی کمی نہیں ہے اور پاور پلانٹس بند ہیں کیونکہ یا تو ان کے پاس کافی ایندھن نہیں تھا یا پھر انہیں تکنیکی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شعبہ کو درپیش مسائل کی ذمہ دار گزشتہ  حکومت ہے۔

وزیر اعظم کو مزید بتایا گیا کہ ملک میں 18 پاور پلانٹس بند یونٹس یا فنی خرابی کے باعث گزشتہ ایک سال سے کام نہیں کر رہے۔

پاور ڈویژن نے مزید کہا کہ یہ پاور پلانٹس خراب وائرنگ یا ان کی بیلٹ ٹوٹ جانے کی وجہ سے بند ہوئے تھے۔ مزید کہا کہ سات دیگر پاور پلانٹس کو بند کر دیا گیا کیونکہ ان کے پاس ایندھن نہیں تھا۔ نو دیگر پلانٹس بندش کا شکار ہو گئے تھے کیونکہ انہوں نے اپنے بل ادا نہیں کیے تھے۔

وزیر اعظم کو مزید بتایا گیا کہ سابقہ ​​حکومت نے وقت پر تکنیکی وجوہات اور خرابیوں کو دور نہیں کیا اور نہ ہی اسپیئر پارٹس کو تبدیل کیا۔ زیادہ تر نقائص انتظامی نوعیت کے ہیں اور  کچھ پالیسی فیصلوں سے متعلق ہیں۔

پاور پلانٹس
پاور ڈویژن

ان اٹھارہ پاور پلانٹس میں پورٹ قاسم، گڈو، مظفر گڑھ، کوٹ ادو پاور کمپنی اور جامشورو شامل ہیں۔

ایندھن کی کمی کی وجہ سے بند ہونے والے سات پاور پلانٹس میں نندی پور اور ساہیوال شامل ہیں۔ جو سستے کوئلے سے بجلی پیدا کرتے ہیں۔ بلوں کی ادائیگی میں ناکامی اور ایندھن خریدنے کے لیے رقم کی کمی کی وجہ سے دسمبر 2021 سے کل نو پاور پلانٹس بند ہو چکے ہیں۔ ان کی بجلی پیدا کرنے کی کل صلاحیت 3,535 میگاواٹ ہے۔

جبکہ فنی خرابی کے باعث بند شدہ 18 پلانٹس سے مجموعی طور پر 3605 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ 

وزیراعظم نے صورتحال پر برہمی کا اظہارکیا۔ اور ہدایت کی کہ فنی خرابیوں کو فوری طور پر دور کیا جائے۔ عوام بجلی کی بندش سے پریشان ہیں۔ اس طرح کی غفلت ناقابل برداشت ہے۔ متعلقہ حکام کو فوری کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔

اس کے علاوہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک میں بجلی کی بندش کا نوٹس لے لیا ہے۔ اس نے اس مسئلے کا ذمہ دار بند پاور پلانٹس کو ٹھہرایا تھا۔ نیپرا نے ایندھن کی قلت یا تکنیکی خرابیوں کے باعث بند پاور پلانٹس کے سربراہان ہیڈ کوارٹر میں طلب کیاہے۔ اس کے ساتھ ہی  نیشنل پاور کنٹرول سینٹر ( این پی سی سی ) اور سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی  پی پی اے  جی) کو بھی بلایا گیا  ہے۔ اتھارٹی نے صارفین کی شکایات پر کے الیکٹرک سمیت تقسیم کار کمپنیوں کو بھی 19 اپریل کو طلب  کیا ہے۔

یاد رہے کہ جن شہروں کے پاور پلانٹس بندش کا شکار ہیں۔ ان شہروں میں لوڈ شیڈنگ کے کافی مسائل بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ عالمی پاور بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں ایسی پالیسیوں اور اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ جو کہ لانگ ٹرم میں پاکستان کیلئے مثبت ثابت ہو سکیں ۔

مزید خبروں اور معلومات کیلئے ہماری ویب سائٹ ملاحظہ فرمائیے

For all the latest updates and news, visit CxO Global FORUM.

Previous articleSupernet Limited Receives An Overwhelming Response On Pakistan’s Growth Enterprise Market Board
Next articleAgha Steel is Raising Rs 2 Billion through Sukuk
Communication Manager, Broadcasting Producer, Creative Director, Script & Screenplay Writer, Storyteller